7ء1857کی جنگ آزادی میں راجپوتوں کو چن چن کے سزائیں دی گئیں۔ اور جو رہ گئے انھوں نے اپنی جان بچانے کے لئے مختلف علاقوں میں روپوشی کی زندگی اختیار کی اور جنگ وجدل کا پیشہ چھوڑ کر مختلف پیشے اپنا لئے جن میں ایک پیشہ تیل نکالنے کا بھی تھا۔
سینکڑوں قبائل چوہان، بھٹی، تنور، جاٹو، قیل جدن، جوئیہ، طور، بھہلیم، پنوار، سولنگی، نربان، بنس، سرویا، کھوکھر، راٹھور، غوری، خلجی، تھہیم، وغیرہ وغیرہ وہ قبائل ہیں جنھوں نے ہندوستان میں مختلف علاقوں پر راج بھی کیا تھا۔ اور تیل نکالنے کا پیشہ بھی اپنایا تھا۔
اور اس بات کا بھی آپ کو پتا ہے کہ زمانہ قدیم سے رائج راجپوت قوم کے اصولوں کے مطابق جو شخص بھی سپہ گری، راج اور جنگ وجدل کے نام نہاد پیشے سے ہٹ کر کوئی دُوسرا پیشہ اپنائے گا۔ اس کو راجپوت قوم سے نکال دیا جائے گا۔ اور جو نیا پیشہ اس نے اپنایا ہو گا اس کو اسی پیشے سے پکارا جائے گا۔
اپ کی اطلاع کے لئے عرض یہ ہے کہ ہمارے آباؤاجداد اس گھٹیا اصول کی زد میں آئے ہوئے لوگ ہیں۔
اور رہا “شیخ و ملک” تو “شیخ و ملک” ایک لقب ہے، اور لقب ایک اعزازی نام ہوتا ہے جو کسی حاکم یا حکومت کی طرف سے اعزازی طور پر دیا جاتا ہے۔ یا پھر خود اختیار کردہ ایک فخریہ نام ہوتا ہے جو کوئی بھی شخص اپنے نام کے ساتھ لگا لیتا ہے۔
اس لئے اپ نے اردگرد نظر ماریں تو ہر چوتھا پانچواں بندہ “ملک” بنا ہوا ہے۔ اور پاکستان میں موجود چار پانچ قوموں کو چھوڑ کر ہر قوم کے لوگوں نے “ملک” کے لقب کو اپنایا ہوا ہے۔
جبکہ تاریخی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ “ملک” انڈو پاک پر مسلم حملہ آور قبائل (غوری، خلجی، تھہیم وغیرہ) جن کا تعلق افغان، ترک، اور عرب وغیرہ کا لقب تھا۔ اور پھر انھوں نے یہ لقب اعزازی طور پر سپہ سالار، راجاؤں اور جنگ میں غیر معمولی شجاعت کے جوہر دکھائے والے ہزاروں افراد کو دیا۔ اس طرح یہ اعزازی لقب مختلف اقوام کے پاس اج تک موجود ہے۔
اور جب ان مسلم قبائل (غوری،خلجی تھہیم وغیرہ) کی ایک بڑی تعداد نے جب تیل نکالنے کا پیشہ اپنایا تو یہ ملک لقب اس نام نہاد تیلی برادری جسکی اکثریت راجپوت گوتوں پر مشتمل تھی کو ان مسلم قبائل کی وجہ سے مل گیا ورنہ تو ہندؤ معاشرے کے گھٹیا اصولوں کے مطابق یہ تیلی برادری کوئی لقب بھی نہیں اپنا سکتی تھی۔
There are 3 comments
ZBRDAST INFARMTION
Good chohan brothers zinda bad
a good step